حدیث نمبر: 6870
عَنْ سُفْيَانَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَحْلَلْتِ فَآذِنِينِي)). فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبُو الْجَهْمِ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ وَلَكِنْ أُسَامَةَ)). قَالَ: فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ تَقُولُ لَمْ تُرِدْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ)). فَتَزَوَّجَتْهُ فَاغْتَبَطَتْهُ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ’’جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔‘‘ یہ دراصل منگنی کی طرف اشارہ تھا، بعد میں پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ فاطمہ بنت قیس، اسامہ سے شادی کر لے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ’’تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵)
یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6870
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27867»