حدیث نمبر: 6864
عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ فَتَرْجُو لِي أَنِ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ)).
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ سلمی بنت جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند شہید ہو گیا، میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی او رکہا: میرے پاس آدمیوں کے منگنیوں کے پیغام آرہے ہیں، جبکہ میں نے شادی سے انکار کر دیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے خاوند سے اسی حال میں ملوں، کیا آپ امید دلاتے ہیں کہ اگر میں اور میرا خاوند جمع ہو گئے تو میں اس کی بیویوں میں سے ہوں گی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر ایک بندے نے ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں سے جو خاتون سب سے جلدی مجھے جنت میں ملے گی، وہ احمس سے ہوگی۔

وضاحت:
فوائد: … قریش، کنانہ، جدیلہ اور دورِ جاہلیت میں ان کے پیروکاروں کالقب احمس تھا، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کے معاملے میں پکے تھے یایہ ہے کہ وہ ’’حمسائ‘‘ میںپناہ لیتے تھے، حمساء سے مراد کعبہ ہے۔ اس حدیث میں اس خاتون کا تعیین کے ساتھ ذکر نہیں ہے، تو پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا کو اس کا مصداق کیسے ٹھہرایا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا قریشی تھیں اور انھوں نے اپنے خاوند کے شہید ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس وجہ سے مزید نکاح کرنے سے روکا ہوا تھا کہ وہ اپنے اُسی خاوند کے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہیں، جبکہ شہداء جنت میں ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس یہ استدلال کشید کر لیا،یا ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6864
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، كريم بن ابي حازم لم يرو عنه غير ابان بن عبد الله، ولم يوثقه غير ابن حبان، أخرجه ابويعلي: 5328 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3822»