الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ فَضْلٍ مَنْ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى أَبْنَائِهَا وَلَمْ تَتزوج وَفَضْلٍ نِسَاءِ قُرَيْشٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ فَتَرْجُو لِي أَنِ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ)).۔ سیدہ سلمی بنت جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند شہید ہو گیا، میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی او رکہا: میرے پاس آدمیوں کے منگنیوں کے پیغام آرہے ہیں، جبکہ میں نے شادی سے انکار کر دیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے خاوند سے اسی حال میں ملوں، کیا آپ امید دلاتے ہیں کہ اگر میں اور میرا خاوند جمع ہو گئے تو میں اس کی بیویوں میں سے ہوں گی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر ایک بندے نے ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں سے جو خاتون سب سے جلدی مجھے جنت میں ملے گی، وہ احمس سے ہوگی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا قریشی تھیں اور انھوں نے اپنے خاوند کے شہید ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس وجہ سے مزید نکاح کرنے سے روکا ہوا تھا کہ وہ اپنے اُسی خاوند کے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہیں، جبکہ شہداء جنت میں ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس یہ استدلال کشید کر لیا،یا ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا ہو۔