الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ فَضْلٍ مَنْ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى أَبْنَائِهَا وَلَمْ تَتزوج وَفَضْلٍ نِسَاءِ قُرَيْشٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا: سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً، كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟)) قَالَتْ: وَاللَّهِ! يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ إِلَّا أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ، وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةُ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، قَالَ: ((فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟)) قَالَتْ: لَا، وَاللَّهِ! قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَرْحَمُكِ اللَّهُ، إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ، صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ)).۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قوم کی سودہ نامی ایک خاتون کو منگنی کا پیغام بھیجا، وہ صاحب اولاد تھی، اس کے فوت ہونے والے خاوند سے اس کے پانچ یا چھ بچے تھے، اس لیے اس نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ شادی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آپ مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن میں آپ کو اس سے برتر اور اعلی سمجھتی ہوں کہ صبح و شام یہ بچے آپ کے سرہانے رونا دھونا کرتے رہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، بہترین وہ عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، قریش کی صالح عورتیں ہیں، جو چھوٹے بچوں سے انتہائی شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ سودہ نامی خاتون، ام ہانی ہی ہو، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں ہوا ہے، شاید اس کا لقب سودہ ہو، کیونکہ مشہور بات یہ ہے کہ اس کا نام فاختہ تھا، لیکن اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ کوئی اور خاتون ہو۔
بہرحالیہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ وہ سودہ نہیں ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، وہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان سے شادی کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ زندہ تھیں۔