حدیث نمبر: 6862
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ كَبُرْتُ وَلِيَ عِيَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ)). قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی بات کر کے یہ بات سمجھانا چاہتے ہیں کہ قریشی خواتین سیدہ مریم سے افضل نہیں ہیں۔
دراصل قریشی خواتین کو ان کی صفات کی وجہ سے باقی عرب عورتوں پر فضیلت دی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6862
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5365، ومسلم: 2527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7637»