حدیث نمبر: 6860
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسًا وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میرے ساتھ شادی کرنے کی رغبت رکھتے ہیں؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کہنے لگی کہ اس عورت میں کس قدر حیا کی کمی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بیٹی! وہ تجھ سے بہتر تھی، کیونکہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں رغبت کا اظہار کیا تھا اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! اس خاتون نے اپنی ذات کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کا انتخاب کیا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کو لڑکی درکار ہو یا لڑکا، ہر ایک کی ترجیح دینداری ہونی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6860
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5120، 61123 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13871»