حدیث نمبر: 6859
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ أَوْ حُذَيْفَةَ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ قَالَ سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِينِي فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِينِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا حِينَ عَرَضْتَهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سیدنا خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بیوہ ہوگئی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوئہ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے مدینہ میں وفات پائی تھی، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان پر حفصہ کو پیش کیا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں حفصہ سے تمہارا نکاح کر دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں اس بارے میں غور کروں گا، میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا، پھر وہ مجھے ملے اور کہا: میں ان دنوں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا تم سے نکاح کر دیتا ہوں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، اس وجہ سے ان پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ افسوس ہوا، بہرحال میں چند دن ٹھہرا رہا ، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے میری بیٹی کے نکاح کا پیغام آگیا اور میں نے اس کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا، بعد میں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انہوں نے کہا: جب تم نے مجھ پر حفصہ کو پیش کیا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تو تم مجھ سے ناراض ہوئے ہو گے؟ میں نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: مجھے آپ کی پیشکش کا جواب دینے میں صرف ایک چیز رکاوٹ تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، یہ ایک راز تھا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رشتہ نہ کرتے تو میں حفصہ سے نکاح کر لیتا۔

وضاحت:
فوائد: … کتنی بڑی بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورسیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو عظیم سمجھ کر ان پر اپنی بیٹی پیش کی، لیکن ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کی بیٹی ام المومنین بننے والی ہے، یہ سب شریعت کا پاس و لحاظ کرنے کی برکتیں ہیں۔ غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کی، وہ کس قدر گہرائی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کو سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6859
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5129، 4005، 5122 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 74 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 74»