الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي التَّزْوِيجِ مَنْ ذِي الدِّينِ وَالْخُلُقِ المرضي وَإِنْ كَانَ فَقِيرًا أَوْ دَمِيمَ الْخِلْقَةِ باب: دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ مُطَوَّلًا وَفِي آخِرِهِ قَالَ ثَابِتٌ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ثَابِتًا قَالَ هَلْ تَعْلَمُ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا قَالَ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مذکورہ بالا روایت کی طرح، البتہ اس کے آخر میں ہے: سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: انصار میں سے خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو۔ اسحاق بن عبد اللہ نے سیدناثابت رضی اللہ عنہ کو بیان کیا اور کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیلئے کیا دعاء فرمائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی تھی: اے اللہ! اس پر بکثرت بھلائی ڈال دے اور اس کی زندگی کو محنت و مشقت والا نہ بنا۔ انصاریوں میں خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ مشہور اور خیر وبرکت والی ہو۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا پاس و لحاظ رکھنے کے فیوض اور برکات ہیں۔