الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي التَّزَوجِ بِالْأَبْكَارِ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا لِمَصْلَحَةٍ فِي التَّيْبِ باب: دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
حدیث نمبر: 6856
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ لَكُمْ أَنْمَاطٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى قَالَ خِفْ أَمَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ نَعَمْ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَتْرُكُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس بیڈ شیٹس ہیں؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بیڈ شیٹیں کہاں سے لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اب تو فقیر اور قلیل المال ہو ، لیکن خبردار! عنقریب چادریں ہوں گی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آج جب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنی چادریں مجھ سے دور کر لے، تو وہ کہتی ہے: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں تھا کہ عنقریب تمہارے لیے بیڈ شیٹیں ہوں گی۔ سو میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری عورت سے شادی کرنے کی ترغیب دلائی ہے، لیکن جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیوہ سے شادی کرنے کی مصلحت کو واضح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اقدام کو سراہا۔