الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
باب صفة المرأة التي تُستحب خطبتها صِفَةِ الْمَرْأَةِ باب: اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 6853
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ أُمَّ سُلَيْمٍ تَنْظُرُ إِلَى جَارِيَةٍ فَقَالَ شُمِّي عَوَارِضَهَا وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو ایک لڑکی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا: اس لڑکی کے سائیڈوں والے دانت سونگھنا اور اس کی ایڑھی کے اوپر کا پٹھا دیکھنا۔
وضاحت:
فوائد: … اس پٹھے سے موٹے اور پتلے دبلے جسم کا اندازہ کیا جا سکتاہے، اگر یہ پٹھا واضح نظر آ رہا ہو توباقی جسم پتلا ہوتا ہے اور اگر یہ واضح نہ ہو تو جسم موٹا ہوتا ہے۔
امام حاکم اور امام بیہقی کی روایات میںیہ تفصیل ہے: جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں تو انھوں نے کہا: اے ام فلاں! ہم آپ کو کھانا کھلائیں؟ انھوں نے کہا: لیکن میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گی، جب تک فلاں لڑکی کھانا پیش نہ کرے، پس وہ ایک کارنس کی طرف چڑھی، اُدھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کا پٹھا دیکھ لیا، پھر اس سے کہا: بیٹی! میری جوئیں نکالو، پس وہ جوئیں نکالنے لگ گئی اور وہ اس کے دانتوں کو سونگنے لگ گئی، پھر وہ واپس آئی اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تفصیل بتائی۔
امام حاکم اور امام بیہقی کی روایات میںیہ تفصیل ہے: جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں تو انھوں نے کہا: اے ام فلاں! ہم آپ کو کھانا کھلائیں؟ انھوں نے کہا: لیکن میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گی، جب تک فلاں لڑکی کھانا پیش نہ کرے، پس وہ ایک کارنس کی طرف چڑھی، اُدھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کا پٹھا دیکھ لیا، پھر اس سے کہا: بیٹی! میری جوئیں نکالو، پس وہ جوئیں نکالنے لگ گئی اور وہ اس کے دانتوں کو سونگنے لگ گئی، پھر وہ واپس آئی اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تفصیل بتائی۔