حدیث نمبر: 6852
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرُ رَحِمِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسانی سے ہوئی ہو، مہر آسان ہو اور جلدی حاملہ ہونے والی ہو۔

وضاحت:
فوائد: … موجودہ معاشرے کے رسم و رواج نے عورتوں سے یہ برکت چھین لی ہے، اب تو منگنی بھی اچھی خاصی تقریب میں طے کی جاتی ہے اور اس وقت سے لینے دینے کے وہ سلسلے شروع ہو جاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے عوام کا دم گھٹنے لگ گیا ہے، لیکن کیا کیا جائے، ظاہر پرستی کا غلبہ ہے، بناوٹی عزتوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، معاشرے کی رفتار کے ساتھ چلنا ہے، منگنی کے بعد والی عیدوں پر تحائف کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے، دبی زبانوں کے ساتھ والدین شکوہ کر رہے ہیں، لیکن جب ان کو شرعی مسئلہ سمجھایا جاتا ہے تو کہتے ہیں: اب کیا کریں جی، فلاں ناراض ہوتا ہے، فلاں باتیں کرتے ہیں، بچہ مانتا نہیں ہے، ایک علاقے میںیہ رواج ہے کہ دولہا کی طرف سے شادی کے دن کا تعین کرنے کے لیے جتنے لوگ دلہن کے گھر آئیں گے، ان سب کو ایک ایک قیمتی سوٹ دیا جائے گا، اتفاق سے ایک غریب گھرانے کی بچی کا دن رکھنے کے لیےپچیس افراد آ گئے اور ان کو کرنڈی کے بہترین پچیس سوٹ دیئے، جبکہ عام دنوں میں گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور وہ سوٹ تیار کرنے کے لیے صرف قرض نہیں مانگا گیا، بلکہ بھیک بھی مانگی گئی اور دست ِ سوال بھی پھیلایا گیا۔
منگنی کی رسم کے بعد جہیز کی تیاری، مہندی اور ابٹن کی رسمیں، پھر سینکڑوں افراد پر مشتمل بارات، اس میں دودھ پلائی رسم، عام سطح پر پندرہ بیس بیس ہزار روپے دے کر دلہن کا بیوٹی پارلر میں میک اپ کرانا، حاضرین کا دلہن کو دیکھنے کا کرایہ دینا، پھر ولیمہ اور اس میں شرکت کرنے والے کا نیندرا اور ملبوسات کی صورت میں تحائف دینا، تقریب کے بعد تحائف کی چیکنگ اور گلے شکوے۔ ایتھے کوئی ہک مصیبت اے!!! اور تقریباً بیشتر گھرانوں میں شادی کے کچھ دنوں کے بعد ماحول میںکشیدگی کا آغاز ہو جاتا ہے، کہیں ساس بہو کا مسئلہ، کہیں بیٹے اور اس کے والدین کا مسئلہ، کہیں بھاوج اور دیور دیوارنیوں کا مسئلہ، کہیں گھر علیحدہ کرنے کا مطالبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لینے کے لیے اکیلے گئے تھے اور گھر والوں نے سیدہ کو فی الفور تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔
اللہ تعالی خیر کرے، اگر بیوی کو حمل نہ ٹھہرنے کا مسئلہ پیدا ہو جائے یا کچھ ماہ کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہویا ولادت کے وقت آپریشن وغیرہ کی ضرورت پڑ جائے تو اس سے خوشکن ماحول کم ہونے لگتا ہے، ذہنی اذیت میں اضافہ ہوتا ہے اور اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6852
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1417، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3637، والبيھقي: 7/ 235 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24983»