الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
باب صفة المرأة التي تُستحب خطبتها صِفَةِ الْمَرْأَةِ باب: اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 6851
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ قَالَ الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ فرمانبرداری کرے اور خاوند اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں جس چیز کو ناپسند کرتا ہے، وہ اس کی مخالفت نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … میاں بیوی کی موافقت کے بغیر معاشرہ پرسکون نہیں رہ سکتا اور اگر دونوں کی مساوی حیثیت ہو تو موافقت کا امکان بہت کم ہے، اس لیے بیوی کو خاوند کے تابع کر دیا گیا ہے، کیونکہ مرد بلکہ مذکر کی فضیلت فطرتاً اور عملاً مسلم ہے، لہذا بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے خاوند کے تابع فرمان رہے تاکہ معاشرہ جنت نظیر بن سکے۔ جس معاشرے میں مرد و زن کی حیثیت مساوی ہے، وہاں معاشرتی بے سکونی اور ازدواجی ابتری عام ہے۔