الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
باب صفة المرأة التي تُستحب خطبتها صِفَةِ الْمَرْأَةِ باب: اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 6850
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے اور تبتّل سے سختی کے ساتھ منع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیار کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت ِ تعداد کی وجہ سے دیگر انبیائے کرام پر فخر کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ کیسے پتہ چلے گا کہ فلاں خاتون زیادہ بچے جنم دینے والی ہے؟ خاندان کی شادی شدہ خواتین سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس خاندان کی عورتوں کی زیادہ اولاد ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کنواری خواتین ہوں، کیونکہ وہ بیوہ کے مقابلے میں زیادہ بچے جنم دینے والی ہوتی ہیں۔