الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
باب صفة المرأة التي تُستحب خطبتها صِفَةِ الْمَرْأَةِ باب: اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 6845
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَجَمَالِهَا وَحَسَبِهَا وَدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام میں اللہ کا خوف اور عمل صالح کی سب سے زیادہ اہمیت ہے، اللہ تعالی کے ہاں وہی زیادہ معزز ہے، جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے، اس لیے نیک اور دین دار خاتون کو ترجیح دینی چاہیے، اسی میں دین و دنیا کی خیر و بھلائی ہے۔
تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔
تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔