الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الْاخْتِصَاءِ وَالتَّبَتْلِ باب: خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6843
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں صرورت نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صرورت کے دو معانی ہیں: (۱) تبتّل، جس کی تفصیل حدیث نمبر ۶۸۳۹ میں گزر چکی ہے اور (۲) حج نہ کرنا، یعنی اسلام میں حج کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بشرطیکہ استطاعت ہو۔
یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اسلام میں دونوں چیزوں کی گنجائش نہیں ہے، نہ تبتّل کی اور نہ حج کو ترک کرنے کی۔
یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اسلام میں دونوں چیزوں کی گنجائش نہیں ہے، نہ تبتّل کی اور نہ حج کو ترک کرنے کی۔