الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الْاخْتِصَاءِ وَالتَّبَتْلِ باب: خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ قَالَتْ فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} [الرعد 38] فَلَا تَبَتَّلْ قَالَ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقِهَ وَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مَكْرَانَ فَقُتِلَ هُنَاكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاں اور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔