الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الْاخْتِصَاءِ وَالتَّبَتْلِ باب: خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6838
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَقَالَ صُمْ وَسَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کر۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بہت خوبصورت جواب ہے، فی الوقت کسی چیز کے اسباب نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے آپ کو مستقل طور پر اس چیز سے محروم کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو کنٹرول کرنے کے لیے عارضی بندوبست کرے اور اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرے، روزہ اپنی جگہ پر مستقل عبادت ہے، لیکن غیر شادی شدہ آدمی کے لیے شہوت کو کنٹرول کرنے کا عارضی بندو بست ہے۔