حدیث نمبر: 6835
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ التَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ وَالسِّوَاكُ وَالْحَيَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت ہیں، عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیاء سے زندگی گزارنا۔

وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں ’’الْحَیَائ‘‘ کے بجائے ’’الحِنائ‘‘ کے اور ایک میں ’’اَلْخِتَان‘‘ کے الفاظ ہیں، مؤخر الذکر الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں،یعنی ختنہ کروانا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صاحب ِ استطاعت کو نکاح کرنے کی ترغیب دلائی ہے، امام احمد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی روشنی میںنکاح کو واجب سمجھا ہے، جبکہ جمہور اہل علم اس کے استحباب کے قائل ہیں، اصل بات یہ ہے کہ نکاح کا وجوب و استحباب مختلف افراد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے، مثلا جو شخص نکاح کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اسے گناہ میں پڑنے کا خدشہ بھی ہو تو اس کے لیے نکاح واجب اور فرض ہے۔
وافر اور اچھا کھانا پینا شہوت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ روزہ بھوک اور پیاس کا نام ہے اور خوراک کی کمی شہوت کو توڑتی ہے، اس لیے غیر شادی شدہ نوجوانوں کے لیے روزہ مفید ہے، ویسے بھی روزہ گناہ سے بچاتا ہے۔ گویا روزے دار آدمی خصی انسان کی طرح پرسکون رہتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل النكاح / حدیث: 6835
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة ليس بذاك القوي، وھو مدلس وقد عنعن، ومكحول عن ابي ايوب مرسل، بينھما في ھذا الحديث ابو الشمال بن ضباب وھو مجھول۔ أخرجه الترمذي: 1080 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23978»