الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ الْحَثِ عَلَيْهِ وَكَرَاهَةِ تَرْكِهِ لِلْقَادِرِ باب: نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 6831
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ لَقِيَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَانَ أَكْثَرَهَا نِسَاءًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا:شادی کرو، پھر بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: شادی کر لو، کیونکہ اس امت کی بہترین ہستی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں۔