الفتح الربانی
مسائل النكاح— نکاح کے مسائل
بَابُ الْحَثِ عَلَيْهِ وَكَرَاهَةِ تَرْكِهِ لِلْقَادِرِ باب: نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَلَّا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ)).۔ علقمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، ان کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کر دیں، ممکن ہے کہ وہ تمہارا بیتا ہوا زمانہ تازہ کر دے؟ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ شادی کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں، تو یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ اے نوجوانو ں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کر لے، بیشک یہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔