الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب فِي أَنَّ السَّيْدَ يُقِيمُ الْحَدَّ عَلَى رَفِيقِهِ باب: آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحُدُودَ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتَ))۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطاب کیا اور کہا: لوگو! اپنے لونڈیوں اور غلاموں پر حدیں قائم کیا کرو، وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ ابھی ابھی اس کا نفاس کا خون شروع ہوا تھا، پس میں ڈر گیا کہ اگر اس کو کوڑے لگائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مر جائے، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اچھا کیا ہے۔
بیماری وغیرہ کی صورت میں کوڑوں کی سزا کو مؤخر کیا جا سکتا ہے، تاکہ مجرم کا کوئی اور نقصان نہ ہو جائے، حدیث نمبر (۶۷۲۱) کی شرح میںیہی مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔