حدیث نمبر: 6742
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا) فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ أَوْ ضَفِيرٍ مِنْ شَعْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اوراس کا زنا ظاہر ہو جائے تو وہ اپنی لونڈی کو حد لگائے اور اسے عار نہ دلائے،پھر اگر وہ اسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو کوڑے لگائے ، لیکن عار نہ دلائے، اگر وہ پھر زنا کرے تو اس کو حدّ لگائے اور اسے عار نہ دلائے، اگر وہ چوتھی مرتبہ زنا کی مرتکب ہو جائے تووہ اس لونڈی کو فروخت کر دے، اگرچہ بالوں کی رسی یا چند بٹے ہوئے بالوں کے عوض فروخت کرنا پڑے۔

وضاحت:
فوائد: … ’’فَلْیَجْلِدْھَا‘‘ کا معنییہ نہیں کہ مالک اپنی لونڈی کو تعزیری کوڑے لگائے، بلکہ ان الفاظ سے مراد حد والے پچاس کوڑے ہیں، کیونکہ مسند احمد کی حدیث نمبر(۷۳۹۵) کے الفاظ یہ ہیں: ’’فَلْیَجْلِدْھَا الْحَدَّ‘‘ یعنی وہ اس کو حد لگائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6742
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1703 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8873»