الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَاب حَدٍ رَنَا الرَّفِيقِ خَمْسُونَ جَلَدَةٌ باب: زانی غلام کی پچاس کوڑے حد ہونے کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ يُحَنَّسَ وَصَفِيَّةَ كَانَا مِنْ سَبْيِ الْخُمُسِ فَزَنَتْ صَفِيَّةُ بِرَجُلٍ مِنَ الْخُمُسِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَادَّعَاهُ الزَّانِي وَيُحَنَّسُ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَفَعَهُمَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَقْضِي فِيهِمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَجَلَدَهُمَا خَمْسِينَ خَمْسِينَ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یحنس اور صفیہ مال غنیمت کے خُمُس کے قیدیوں میں سے تھے، صفیہ نے خُمُس کے آدمی سے زنا کیا اور بچہ بھی جنم دیا، زانی اور یحنس دونوں نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا اور اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے، انہوں نے ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ بچہ اسے ملے گا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے اورزانی کے لیے پتھر ہوں گے، پھر انھوں نے ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے۔
یعنی لونڈیوں کو سو (۱۰۰) کے بجائے نصف یعنی پچاس کوڑوں کی سزادی جائے گی، گویا ان کے لیے سزائے رجم نہیں ہے، کیونکہ وہ نصف نہیں ہو سکتی، اگلے باب کی احادیث سے مزید وضاحت ہو گی۔