الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَأَنَّ الْإِسْلَامَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِي الْإِحْصَانِ باب: اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6739
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ أَخْبَرَنِي قَالَ قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً قَالَ قُلْتُ بَعْدَ نُزُولِ النُّورِ أَوْ قَبْلَهَا قَالَ لَا أَدْرِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ شیبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا تھا۔ میں نے کہا: سورۂ نور کے نزول سے پہلے کیا تھا یا بعد میں، انھوں نے کہا: اس کا تو مجھے علم نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ نور کے نزول کے بارے میں سوال سے مراد یہ آیت تھی: { اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ} … ’’زانی مرد اور زانی عورت، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔‘‘ (سورۂ نور: ۲) سنن ابی داود میں بھی اس موضوع سے متعلقہ تفصیلی روایات موجود ہیں، ان تمام روایات کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات کی روشنی میں ان یہودیوں کے درمیان فیصلہ کیا تھا، نہ کہ اسلام کا حکم ہونے کی وجہ سے۔