الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ أَوَ أَتَى بَهِيمَةٌ أَوْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمٍ لُوطٍ باب: اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط¤والا عمل کر بیٹھے
حدیث نمبر: 6733
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي عَمِّي الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ لِوَاءٌ قَدْ عَقَدَهُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا عَمِّ أَيْنَ بَعَثَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں باندھ کر دیا تھا، میں نے ان سے کہا: اے چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو کہاں بھیجا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا کہ جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَنْکِحُوْا مَانَکَحَ آٰبَائُکُمْ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} … ’’اور اس خاتون سے نکاح نہ کرو، جس سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔‘‘ (سورۂ نسائ:۲۲) سوتیلی ماں سے صرف نکاح کرنے کییہ سزا ہے، خواہ اس نے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔