الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي مَنْ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ باب: بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ ثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَكَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ قَالَ فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ قَالَ وَكَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً وَقَالَ سَمِعْتُ أَبَانًا يَقُولُ وَأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ فِيهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهَذَا۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن حنین نامی ایک آدمی تھا، اس کو قرقور کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، جب اس کا معاملہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا فیصلہ کروں گا، اگر تیری بیوی نے تیرے لئے اس لونڈی کو حلال قرار دیا تھا تو پھر میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے تیرے لئے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کروں گا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال قرار دیا تھا، اس لیے انھوں نے اس کو سو کوڑے لگائے۔