حدیث نمبر: 6726
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ ثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَكَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ قَالَ فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ قَالَ وَكَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً وَقَالَ سَمِعْتُ أَبَانًا يَقُولُ وَأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ فِيهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن حنین نامی ایک آدمی تھا، اس کو قرقور کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، جب اس کا معاملہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا فیصلہ کروں گا، اگر تیری بیوی نے تیرے لئے اس لونڈی کو حلال قرار دیا تھا تو پھر میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے تیرے لئے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کروں گا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال قرار دیا تھا، اس لیے انھوں نے اس کو سو کوڑے لگائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6726
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، خالد بن عرفطة مجھول، ثم ان فيه اضطرابا۔ أخرجه ابوداود: 4458، والنسائي: 6/ 124، والترمذي: 1451 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18615»