الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي إِقَامَةِ الْحَدَ عَلَى الْمَرِيضِ باب: مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا إِنْسَانٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ لَمْ يُرْعَ أَهْلُ الدَّارِ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا وَكَانَ مُسْلِمًا فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اضْرِبُوهُ حَدَّهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ إِنْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةً قَتَلْنَاهُ قَالَ فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَخَلُّوا سَبِيلَهُ۔ سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے محلے میں ایک ناقص الخلقت انسان رہتا تھا، گھر والوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ محلہ کی ایک لونڈی کے ساتھ زنا کررہا ہے، جبکہ وہ مسلمان تھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حد لگاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس قابل نہیں کہ حد برداشت کر سکے، اگر ہم نے اسے سو کوڑے لگائے تو وہ مر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک ٹہنی لے لو، جس میں سو شاخیں ہوں اور اسے ایک دفعہ مار دو اور پھر اس کو چھوڑ دو۔