الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب تأخير الحَدَ عَنِ الْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا باب: وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَتْ فَأَمَرَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گیااورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔
اگر حالات کے لحاظ سے کنوارے زانی کو مہلت دی جاسکتی ہے تو شادی شدہ کے لیے بھی اس مہلت کا جواز ہونا چاہیے۔ فرق کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ (عبداللہ رفیق)