حدیث نمبر: 6718
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا وَقَالَتْ أَنَا حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي فَفَعَلَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا قَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور اس نے کہا: میں حاملہ ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اورفرمایا: اس سے حسن سلوک کرنا اور جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا، پس اس پر اس کے کپڑے کس دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!اسے آپ نے رجم کیا ہے اور پھر اب اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا جائے تو یہ ان کو بھی بخشوا دے گی، بھلا کیا تم نے اس سے بھی کوئی چیز افضل پائی ہے کہ اس عورت نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگر ان دو احادیث کو ایک عورت کے بارے میں سمجھا جائے تو پھر یہ مسئلہ سمجھنا آسان ہے کہ عورت کو بچے کو دودھ پلانے کا موقع دیا جائے گا اور اگر یہ دو الگ الگ واقعات ہیں تو پہلی حدیث کی روشنی میں دوسری حدیث کی تاویل کریں گے، یعنی اس میں دودھ پلانے کا ذکر نہیں ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بھییہ موقع دیا ہو گا، تاکہ کسی کے جرم کی وجہ سے بچے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری حدیث کے مطابق خاتون کو بچے کی ولادت کے بعد اس لیے فوراً رجم کر دیا گیا ہو کہ اس کو دودھ پلانے والی کوئیاور خاتون موجود ہے۔
مؤخر الذکر تاویل کی دلیلیہ ہے کہ اس باب کی پہلی حدیث کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَنْ لَا نَرْجُمُھَا وَنَدَعُ وَلَدَھَا صَغِیْرَ السِّنِّ لَیْسَ لَہٗمَنْیُّرْضِعُہُ۔)) … ’’تو پھر ہم ابھی اس کو رجم نہیں کریں گے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم بچے کو کم عمری میں اس طرح چھوڑ دیں کہ اس کو دودھ پلانے والا ہی کوئی نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۶۹۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6718
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20101»