الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسَاهُلِ وَالتَّسَامُحِ فِي الْبَيْعِ والإقالَةِ وَحُسْنِ التَّقَاضِي وَفَضْل ذلِكَ باب: اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
عَنِ الشَّعْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ إِنِّي زَنَيْتُ فَقَالَ لَعَلَّكِ غَيْرَى لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ وَفِي لَفْظٍ لَعَلَّ زَوْجَكِ جَاءَكِ فَكُلٌّ تَقُولُ لَا فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ شعبی سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ ہمدانیہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، انھوں نے کہا: شاید تیری غیرت پیدا ہو گئی ہو، یا خواب دیکھا ہو، یا تجھے مجبور کیا گیا ہو، ایک روایت میں ہے: شاید تیرا خاوند تیرے پاس آیا ہو، لیکن اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا: نہیں، نہیں، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے جمعرات کو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن رجم کیا اور کہا: میں کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے لگائے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی روشنی میں رجم کیا ہے۔