حدیث نمبر: 6715
عَنْ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِشَرَاحَةَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ وَأَنَّهَا حَمَلَتْ فَجَاءَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ زَنَتْ فَاعْتَرَفَتْ فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةً وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحَفَرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ شَهِدَ عَلَى هَذِهِ أَحَدٌ لَكَانَ أَوَّلُ مَنْ يَرْمِي الشَّاهِدَ يَشْهَدُ ثُمَّ يُتْبِعُ شَهَادَتَهُ حَجَرَهُ وَلَكِنَّهَا أَقَرَّتْ فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاهَا فَرَمَاهَا بِحَجَرٍ ثُمَّ رَمَى النَّاسُ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَكُنْتُ وَاللَّهِ فِيمَنْ قَتَلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عامر شعبی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ کا خاوند اس کے پاس سے غائب تھا اور وہ شام میں تھا، لیکن شراحہ حاملہ ہوگئی، اس کا سرپرست اسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے زنا کیا ہے اور اس نے خود بھی اعتراف کر لیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اس کو سو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن اس کو رجم کیا ، اس کے لئے ناف تک گڑھا کھودا، میں بھی وہاں موجود تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رجم سنت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نافذ کیا، اگر اس عورت پر کوئی گواہی دیتا تو وہی پہلا پتھر پھینکتا، پہلے گواہی دیتا، ساتھ ہی گواہی کے بعد پتھر مارتا۔ لیکن اس عورت نے اقرار کیا ہے، اس لیے میں پہلا ہوں جو اسے پتھر مارتا ہوں، پھر اس پر پتھر پھینکا ، بعد ازاں لوگوں نے پتھر مارے، عامر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ہوں، جنہوں نے اسے قتل کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … گواہی دینے والے کا پہلا پتھر پھینکنا اور اعتراف کرنے والے پر حاکم کا پہلا پتھر پھینکنا،یہ مستحب امور ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6715
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري وروايته مختصرة بقصة الرجم فقط: 6812 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 978»