الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب فِيمَا يُذْكَرُ فِي الرُّجُوعِ عَنِ الْإِقْرَارِ وَمَنْ أَقَرَّ أَنَّهُ زَنٰي بِإِمْرَأَةٍ فَجَحَدَتْ باب: زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
حدیث نمبر: 6713
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ وَفِي لَفْظٍ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ خَرَجَ فَهَرَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی از خود اعتراف کرے، اس کو انکار کرنے کا حق حاصل ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲، ۶۷۰۲) کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔