حدیث نمبر: 6713
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ وَفِي لَفْظٍ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ خَرَجَ فَهَرَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟

وضاحت:
فوائد: … جو آدمی از خود اعتراف کرے، اس کو انکار کرنے کا حق حاصل ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲، ۶۷۰۲) کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6713
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، غير ان قوله: ’’بين مكة والمدينة‘‘ فيه نظر، وھذا اسناده ضعيف لجھالة حال عبد العزيز بن عبد الله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16701»