الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب فِيمَا يُذْكَرُ فِي الرُّجُوعِ عَنِ الْإِقْرَارِ وَمَنْ أَقَرَّ أَنَّهُ زَنٰي بِإِمْرَأَةٍ فَجَحَدَتْ باب: زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْدَى عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ فَخَرَجْنَا إِلَى حَرَّةِ بَنِي نِيَارٍ فَرَجَمْنَاهُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْهُ وَرَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ جَزَعَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟