حدیث نمبر: 6712
عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْدَى عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ فَخَرَجْنَا إِلَى حَرَّةِ بَنِي نِيَارٍ فَرَجَمْنَاهُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْهُ وَرَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ جَزَعَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6712
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 7208، والدارمي: 2/ 177،، وابن ابي شيبة: 10/ 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15640»