الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب فِيمَا يُذْكَرُ فِي الرُّجُوعِ عَنِ الْإِقْرَارِ وَمَنْ أَقَرَّ أَنَّهُ زَنٰي بِإِمْرَأَةٍ فَجَحَدَتْ باب: زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ يَعْنِي مَاعِزًا إِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاهُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي وَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِكَ قَالَ فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْهُ حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ قَوْلَهُ فَقَالَ أَلَا تَرَكْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُونِي بِهِ إِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَثَبَّتَ فِي أَمْرِهِ۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے ۔