حدیث نمبر: 6711
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ يَعْنِي مَاعِزًا إِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاهُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي وَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِكَ قَالَ فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْهُ حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ قَوْلَهُ فَقَالَ أَلَا تَرَكْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُونِي بِهِ إِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَثَبَّتَ فِي أَمْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6711
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4420 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15155»