الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ اسْتِفْسَارِ الْمُقِرِ بِالرِّنَا وَاعْتِبَارِ تَصْرِيحِهِ بِمَا لَاتَرَدُّدَ فِيهِ باب: زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
حدیث نمبر: 6708
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ زَنَيْتُ لَعَلَّكَ غَمَزْتَ أَوْ قَبَّلْتَ أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا قَالَ كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِي مَا الزِّنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جب ماعز نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو (یا مطلب یہ ہے کہ تونے ہاتھ کے ساتھ چھیر چھار کی ہو) یا بوسہ لیا ہو یا دیکھا ہو؟ راوی کہتا ہے: ایسے لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر تھا کہ ممکن ہے کہ یہ شخص زنا کی تعریف سے ناآشنا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … راوی نے ان سوالات کی وجہ بیان کر دی ہے، حدیث نمبر (۶۶۵۹) اور اس کے بعد والی احادیث میں زنا کی مختلف قسموں کا ذکر گزر چکا ہے، مثلا آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور زبان کا زنا، اس لیے ممکن ہے کہ کوئی آدمی ان کو وہ زنا سمجھ لے، جس کی وجہ سے حدّ لگتی ہے، سو جرم کا اقرار کرنے والے کی کیفیت کو دیکھ کر مختلف انداز میں شک و شبہ کو دور کیا جا سکتا ہے۔