الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ اسْتِفْسَارِ الْمُقِرِ بِالرِّنَا وَاعْتِبَارِ تَصْرِيحِهِ بِمَا لَاتَرَدُّدَ فِيهِ باب: زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
حدیث نمبر: 6707
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ قَالَ لَا قَالَ فَنِكْتَهَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ماعز بن مالک ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے دخول کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا۔