حدیث نمبر: 6706
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَرَدَّدَهُ أَرْبَعًا ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَهُ حَفِيرَةً لَيْسَتْ بِالطَّوِيلَةِ فَرُجِمَ فَارْتَحَلَ رَسُولُ الل ’َهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَئِيبًا حَزِينًا فَسِرْنَا حَتَّى نَزَلَ مَنْزِلًا فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَمْ تَرَ إِلَى صَاحِبِكُمْ غُفِرَ لَهُ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اس بد نصیب نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے رخ موڑ لیا، پھر اس نے دوسری، تیسری، حتیٰ کہ چوتھی مرتبہ اقرار کرلیا، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے اترے۔ ایک روایت میں ہے: اس آدمی نے ایک مرتبہ اقرار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ردّ کر دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار اقرار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے اور ہمیں حکم دیا، پس ہم نے اس کے لئے ایک چھوٹا سا گڑھا کھودا، وہ کوئی زیادہ گہرا نہ تھا اور اسے سنگسار کر دیا گیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غم و حزن کے عالم میں سفر کو جاری کیا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مقام پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت چھٹ گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے اپنے ساتھی کی طرف نہیں دیکھا، اس کو بخش دیا گیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا گیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں چار بار زنا کا اعتراف کرنے کا ذکر ہے، لیکنیہ صرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، جرم کے ثبوت کے لیے شرط نہیں ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲) کی شرح دیکھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اعتراف کرنے والے کو بھی حدّ لگائی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد متعلقہ شخص کی کیفیت پر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6706
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، وعبد الله بن المقدام مجھول۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 3/ 142 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21887»