الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ اعْتِبَارِ تَكْرَارِ الْإِقْرَارِ بِالزِّنَا أَرْبَعًا باب: چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبِكَ جُنُونٌ قَالَ لَا قَالَ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اورزنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس سے اعراض کر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنا رخ پھیر لیا،یہاں تک کہ جب اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون کی بیماری تو نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو عید گاہ میں رجم کیا گیا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن پھر اس کو پا لیا گیا اور پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے خیر و بھلائی کی باتیں کیں، لیکن اس کی نمازِ جنازہ ادا نہ کی۔