حدیث نمبر: 6702
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالَ لَهُمْ مَا تَعْلَمُونَ مِنْ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ هَلْ تَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ثُمَّ عَادَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا أَيْضًا فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ أَيْضًا فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا لَهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّابِعَةَ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَفَرْنَا لَهُ حُفْرَةً فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ وَقَالَ بُرَيْدَةُ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ لَوْ جَلَسَ فِي رَحْلِهِ بَعْدَ اعْتِرَافِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ لَمْ يَطْلُبْهُ وَإِنَّمَا رَجَمَهُ عِنْدَ الرَّابِعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک نامی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ وہ دوسرے دن پھر آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا اور فرمایا: تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے بارے میں کیا جانتے ہو، کیا وہ تمہارے خیال کے مطابق ایسا ویسا ہے، یا تمہیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اس میں کوئی ایسی ویسی چیز محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے، اُدھر وہ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ آیا اور زنا کرنے کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس کی قوم کو بلا بھیجا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے وہی پہلے والا جواب دیا ،ہمارے خیال میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی عقل میں کوئی خرابی ہے، اُدھر ماعز چوتھی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ کر آیا اور زنا کا اعتراف کیا۔ اب کی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور ہم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور اسے سینہ تک اس میں گاڑھ دیا، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے رجم کر دیں۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم لوگ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین بار زنا کا اعتراف کرنے کے بعد اپنے گھر میں بیٹھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو طلب نہ کرتے، لیکن جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تھا تو آپ نے اسے رجم کر نے کا حکم دے دیا۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے قول کی سند ضعیف ہے، لیکن اگر یہ صحابی چلا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا پیچھا کر کے اس سے مزید تحقیق نہیں کرنی تھی، بلکہ پچھلے باب میں ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر اعتراف کرنے والا شخص چار دفعہ اعتراف کرنے کے بعد یا سزا کے شروع ہو جانے کے بعد بھی اپنی برائی کا انکار کر دے، یا ایسے انداز میں حقیقت ِ حال بیان کرے کہ جس کے مطابق وہ رجم کی سزا سے بچتا ہو تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6702
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وقول بريدة الذي في آخر الحديث تفرد به بشير بن المھاجر الغنوي، وھو مختلف فيه، وھو الي الضعف اقرب۔ أخرجه مسلم: 1695 دون قول بريدةB ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23330»