الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي قِصَّةِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكِ الْأَسْلَمِيِّ وَرَجْمِهِ باب: ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ أَنَّ هَزَّالًا كَانَ اسْتَأْجَرَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ يُقَالُ لَهَا فَاطِمَةُ قَدْ أَمْلَكَتْ وَكَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُمْ وَأَنَّ مَاعِزًا وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَخْبَرَ هَزَّالًا فَخَدَعَهُ فَقَالَ انْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ عَسَى أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ فَلَمَّا عَضَّتْهُ مَسُّ الْحِجَارَةِ انْطَلَقَ يَسْعَى فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ بِلَحْيِ جَزُورٍ أَوْ سَاقِ بَعِيرٍ فَضَرَبَهُ بِهِ فَصَرَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيْلَكَ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ۔ (دوسری سند) نعیم بن ہزال سے روایت ہے کہ سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ نے ماعز بن مالک کو کرائے پر رکھا اور ہزال کی فاطمہ نامی ایک لونڈی تھی،اس نے خاوند سے طلاق لے رکھی تھی اور وہ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ماعز نے اس سے برائی کر لی اور پھر سیدنا ہزال رضی اللہ عنہ کو بھی بتا دیا، انھوں نے اس کو دھوکہ دیا اور کہا:تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اورآپ کو اس وقوعے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ تیرے بارے میں قرآن مجید نازل ہو اور اس طرح کوئی بہتر سبیل نکل آئے، جب اس نے تفصیل بتائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا،پس اس کو رجم کیا جانے لگا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگ پڑا، آگے سے ایک آدمی اونٹ کے جبڑے کی یا پنڈلی کی ایک ہڈی لے کرآ رہا تھا، اس نے اس کو وہ ہڈی مار کر گرا دیا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ہزال! تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر تو نے اپنے کپڑے سے اس پر پردہ کیا ہوتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا۔