الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي قِصَّةِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكِ الْأَسْلَمِيِّ وَرَجْمِهِ باب: ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجٌ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِيمَنْ قَالَ بِفُلَانَةٍ قَالَ هَلْ ضَاجَعْتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ بَاشَرْتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ جَامَعْتَهَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ قَالَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزَعَ فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَهُ فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ يَتُوبُ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ هِشَامٌ فَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي حِينَ رَآهُ وَاللَّهِ يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِهِ۔ نعیم بن ہزال کہتے ہیں: ماعز بن مالک میرے ابا جان کی زیر پرورش تھا، اس نے قبیلہ کی ایک لونڈی سے زنا کر لیا، میرے ابا جان نے اس سے کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چل اور آپ کو اپنے کیے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے لیے بخشش کی دعا کر دیں، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے، چنانچہ ماعز آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کر لیا، وہ دوسری جانب آ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں زنا کر بیٹھا ہوں، آپ مجھ پراللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخ پھیر لیا)، وہ تیسری بار سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم نافذ کریں، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعراض کیا)، پھر چوتھی مرتبہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری کریں، اب کی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے چار مرتبہ اعتراف کر لیا ہے، اب مجھے بتا کہ تو نے کس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کے ساتھ لیٹا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو رجم کردیا جائے، پس اس کو حرّہ کی طرف لے جایا گیا، جب اسے پتھر زنی کی تکلیف ہوئی تو وہ بے سد ہو کر وہاں سے نکل کر بھاگا، آگے سے سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس کو ملے، اُدھر اس کو رجم کرنے والے اب عاجز آ چکے تھے، چنانچہ سیدنا عبد اللہ نے اونٹ کی پنڈلی کی ایک ہڈی لی اور اس کو مار دی، پس وہ فوت ہو گیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بھاگ جانے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا۔ نعیم بن ہزال نے اپنے ابا جان سے روایت کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: اے ہزال! اگر تم نے اس کی پردہ پوشی کی ہوتی تو بہتر ہوتا، بہ نسبت اس کے جو آپ نے اس کو مشورہ دے کر اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنے اقرار سے انکار کرنا چاہتا ہو، یا اس کی کوئی ایسی تفصیل ہو، جس کی وجہ سے وہ حد سے بچ جاتا۔
چار دفعہ اقرار کرواناصرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اقرار کرنے پر بھی حد نافذ کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد d کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((عَلٰی اِبْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ، وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاَمَّا اَنْتَیَا اُنَیْسٌ! فَاغْدُ عَلٰی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا۔)) … ’’تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، انیس! تو نے صبح کو اس کی بیوی کے پاس جانا ہے، اگر وہ (زنا کا) اعتراف کرے تو اسے رجم کر دینا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۳۱۴، ۱۶۹۵)
اس حدیث میں اعتراف کا بلا قید ذکر ہے، جس کو ایک دفعہ پر محمول کیا جائے گا، اسی طرح سیدنا لجلاج رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ایک عورت کو ایک مرتبہ اقرار کرنے پر رجم کروا دیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۳۵) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو اور واقعات پر بھی صرف ایک مرتبہ اعتراف کرنے پر حدّ نافذ کی تھی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کی کیفیت کو سامنے رکھ کر اس سے ایکیا زائد بار جرم کا اعتراف کروایا جائے، اسی طرح وہ جس جرم کا اعتراف کر رہا ہو، اس کے بارے میں بھییقین دہانی کر لی جائے کہ کیا اس مجرم کو اپنے جرم کی حقیقت کا علم بھی ہے یا نہیں،مثلا حدیث نمبر (۶۷۰۷) کے مطابق زنا کا اعتراف کرنے والے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟‘‘
یہی معاملہ چوری، ڈاکہ زنی، تہمت اور دوسرے تعزیر اور حدّ والے جرائم کا ہے۔
حدیث کا آخری جملہ ’’لَوْ سَتَرْتَہُ … ‘‘ محتاج وضاحت ہے، کیونکہ اس کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے، امام باجی نے (المنتقی: ۷/ ۱۳۵) میں اس کی تفسیریوں کی: ہزال، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کو اس کے جرم پر مطلع کیا،کو چاہیے تھا کہ اِس کو توبہ کرنے کی تلقین کرتا اور اس کے گناہ پر پردہ ڈالتا، چادر کا ذکر مبالغہ کے طور پر کیا گیا ہے۔ جس کا معنییہ ہے کہ اگر اس کے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہوتا، سوائے اس کے کہ اس پر چادر کی اوٹ کر لیتا تاکہ گواہوں کی نگاہ اس پر نہ پڑ سکتی، تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجنے اور اس پر حد کے نفاذ کا سبب بننے سے بہتر تھا۔
حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۱۲۵) میںیہی تفسیر نقل کی اور اس کو برقرار رکھا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کو ماعز جیسے لوگوں پر محمول کیا جائے، جو زنا کے عادی نہیں ہوتے اور مرتکب ہونے کی صورت میں نادم و پشیمان ہو جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے جرائم پر پردہ ڈالا جائے اور ان کی تشہیر نہ کی جائے۔ لیکن جو آدمی تسلسل اور ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ اِن جرائم کا ارتکاب کر رہا ہو، ایسے آدمی کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے اور اس کا معاملہ حاکم تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرے، جس کا حکیم شارع نے حکم دیا۔ اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے (المرقاۃ: ۴/ ۷۶) دیکھیں۔