الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَنِ وَجَلَدِ الْبِكْرِ وَتَغْرِيبِهِ عَامًا باب: شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک¤جلاوطن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6687
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کی جلا وطنی ہو گی اور جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد برائی کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگا کر سنگسار کر دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ایک زائد حکم کا ذکر ہے، اور وہ ہے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے سے پہلے سو کوڑے لگانا، عام احادیث میں اس شادی شدہ کے لیے صرف رجم کا ذکر ہے، امام احمد، امام اسحاق اور امام داود ظاہری کی رائے یہی ہے کہ پہلے کوڑے لگائے جائیں، کیونکہ اس حدیث میں رجم کے ساتھ کوڑے لگانے کا ذکر موجود ہے، یہی مسلک راجح ہے، جن احادیث میں کوڑے لگانے کا ذکر نہیں ہے تو ان کے بارے میں گزارش ہے کہ کسی چیز کا عدم ذکر، اس کے معدوم ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔
امام مالک اور امام شافعی سمیت جمہور اہل علم ایسے زانی کے لیے سو کوڑوں کے قائل نہیں ہے، لیکن درج بالا حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ کنوارے مرد وزن، دونوں کے لیے سوکوڑوں اور جلا وطنی کا حکم ہے، عورت کو جلاوطن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا انتظام بھی کیا جائے گا، عورت کو جلاوطنی سے مستثنی قرار دینا بلا دلیل ہے۔
اگر بعض احادیث میں کوڑوں کا ذکر نہیں تو کئی ثابت، صحیح احادیث میں ان کا ذکر ہے، وہ ایک زائد بات ہے لہٰذا زائد بات کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ مطلق کو مفید پر محمول کرنے کا قاعدہ بھی معروف ہے۔ اس کا تقاضا بھییہی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا دو طرح کی ہے، سو کوڑے اور پھر رجم۔ (عبداللہ رفیق)
امام مالک اور امام شافعی سمیت جمہور اہل علم ایسے زانی کے لیے سو کوڑوں کے قائل نہیں ہے، لیکن درج بالا حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ کنوارے مرد وزن، دونوں کے لیے سوکوڑوں اور جلا وطنی کا حکم ہے، عورت کو جلاوطن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا انتظام بھی کیا جائے گا، عورت کو جلاوطنی سے مستثنی قرار دینا بلا دلیل ہے۔
اگر بعض احادیث میں کوڑوں کا ذکر نہیں تو کئی ثابت، صحیح احادیث میں ان کا ذکر ہے، وہ ایک زائد بات ہے لہٰذا زائد بات کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ مطلق کو مفید پر محمول کرنے کا قاعدہ بھی معروف ہے۔ اس کا تقاضا بھییہی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا دو طرح کی ہے، سو کوڑے اور پھر رجم۔ (عبداللہ رفیق)