حدیث نمبر: 6686
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ كَرَبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ فَأَوْحَى إِلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَقِيَ كَذَلِكَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رُجِمَ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرب و اذیت کا سامنا کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت تبدیل ہو جاتی، ایک دن جب آپ پر وحی کا نزول ہواتو آپ پر یہی کیفیت طاری ہو گئی، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد اور کنواری عورت کے ساتھ کنوارا مرد زنا کرے گا تو شادی شدہ کو سو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے گا اور کنواروں کو سو کوڑے لگا کر ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث دراصل اس آیت کی تفسیر تھی: {وَالّٰتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰییَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلَا} … ’’تمہاری عورتوں میں جو بے حیائی کا کام کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اورراستہ نکالے۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۱۵) اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زانیوں کی سزائیں بیان کر کے اسی راستے کی وضاحت کررہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6686
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1690 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23114»