الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ نَهْيِ الْمُخَيِّينَ عَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ باب: ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنِّثٌ وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً فَقَالَ إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک ہیجڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس آتا رہتا تھا، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ شہوانی خواہشات سے عاری ہے، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو وہ ہیجڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی اہلیہ کے پاس موجود تھا، وہ ایک عورت کا حسن یوں بیان کرنے لگا کہ وہ جب آتی ہے تو چار بَلْ کے ساتھ آتی ہے اور جب وہ جاتی ہے تو آٹھ بل کے ساتھ جاتی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنا کچھ جانتا ہے، یہ آئندہ تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پس لوگوں نے اس کو منع کر دیا۔