حدیث نمبر: 6678
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنِّثٌ وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً فَقَالَ إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک ہیجڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس آتا رہتا تھا، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ شہوانی خواہشات سے عاری ہے، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو وہ ہیجڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی اہلیہ کے پاس موجود تھا، وہ ایک عورت کا حسن یوں بیان کرنے لگا کہ وہ جب آتی ہے تو چار بَلْ کے ساتھ آتی ہے اور جب وہ جاتی ہے تو آٹھ بل کے ساتھ جاتی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنا کچھ جانتا ہے، یہ آئندہ تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پس لوگوں نے اس کو منع کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ہیجڑوں میں سنجیدگی اور شرم و حیا کم ہوتا ہے، بلکہ پایا ہی نہیں جاتا، یہ لوگ مردوں سے بھی شہوانی باتیں کرتے ہیں اور عورتوں سے بھی، درج بالا احادیث سے پتہ چلا کہ یہ مرد و زن کی کیفیت بھی بتلا سکتے ہیں، جبکہ ایسا کرنے سے پردہ بے معنی ہو جاتا ہے، پھر آگے سے ان کے مخاطَب افراد بھی غیر سنجیدہ ہو کر شرارت والی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور شہوانی جذبات ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں، ایسے ہیجڑوں کو خواتین و حضرات دونوں کے پاس آنے سے منع کر دینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6678
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2181، وابوداود!: 4109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25700»