الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ نَهْيِ الْمُخَيِّينَ عَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ باب: ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا مُخَنِّثٌ وَعِنْدَهَا أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ وَالْمُخَنِّثُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَتْ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكِ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا ہوا تھا، لیکن میرا بھائی سیدنا عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اس ہیجڑے نے عبد اللہ سے کہا: اے عبد اللہ بن زمعہ! اگر کل اللہ تعالی نے تمہارے لیے طائف کو فتح کر لیا تو غیلان کی بیٹی کو تو نے لازمی طور پر پکڑ لینا ہے، کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے یہ الفاظ سنے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: آئندہ یہ ہیجڑا ہر گز تجھ پر داخل نہ ہونے پائے۔