الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ حَائِلٍ باب: بغیر کسی اوٹ کے مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6674
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ حَتَّى تَصِفَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت، عورت کے ساتھ مل کر نہ سوئے حتیٰ کہ وہ اپنے خاوند کے لیے اس خاتون کا حلیہ بیان کرے گی گویا کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: الا یہ کہ ان دونوں کے درمیان کپڑا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … کسی خاتون کے لیے منع ہے کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے دوسری خواتین کا حسن بیان کرے، ظاہر بات ہے کہ اس سے خاوند کے اندر غلط جذبات ابھر سکتے ہیں۔