حدیث نمبر: 6673
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ إِلَّا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ وَفِي رِوَايَةٍ أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں مباشرت نہ کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔ ایک روایت میں ہے: ہر گز کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ اولاد اور والدین کے باہمی تقدس کی وجہ سے حرام کام کے ارتکاب کا خطرہ تو نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے بھی اس طرح لیٹنا ممنوع ہے، کیونکہیہ بھی بے پردگی، بد تہذیبی اور گندے خیالات کے پیدا ہونے کا مستلزم ہے۔ اس حدیث میں اولاد اور والدین کو مستثنی کیا گیا ہے، لیکن استثنا والے یہ الفاظ ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6673
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: ’’الا الولد والوالد‘‘، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الطفاوي شيخ ابي نضرة۔ أخرجه ابوداود: 2174، والترمذي:2787 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9774»