الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
) باب: اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ قَالَ أَجَلْ قَدْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَفْعَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ گھر داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل بھی کیا ہوا تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کچھ ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، فلاں عورت میرے پاس سے گزری، اس سے میرے دل میں عورتوں کی خواہش بیدار ہوئی، اس لیے میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور حق زوجیت ادا کیا، تم بھی اسی طرح کیا کرو، حلال کو اختیار کرنا تمہارے افضل اعمال میں سے ہے۔