الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
) باب: اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَاكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حرم پاک سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جبکہ وہ چمڑا مل رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: بے شک عورت شیطان کی صورت میں متوجہ ہوتی ہے اور شیطان کی صورت میں ہی پیٹھ پھیر کر جاتی ہے، اس لیے جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور (اپنی حاجت پوری کر لے)، یہ چیز اس کے نفس کے برے خیال کو ختم کر دے گی۔
قارئین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و عظمت کا اعتراف کرنے کے بعد ان امور میں فرق کرنا چاہیے: محض کسی چیز کا خیال آ جانا، برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا اور پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنے کا ارادہ کرنا، برائی کا عزم کرنا اور
اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں رہنا، عملی طور پر برائی کرنا۔ مؤخر الذکر تین امور عصمت کے منافی ہیں، پہلی چیز قابل مؤاخذہ نہیں ہے، بالخصوص جب اس کے اثر کو نیکی کے ذریعے زائل کر دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔