حدیث نمبر: 6665
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَاكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حرم پاک سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جبکہ وہ چمڑا مل رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: بے شک عورت شیطان کی صورت میں متوجہ ہوتی ہے اور شیطان کی صورت میں ہی پیٹھ پھیر کر جاتی ہے، اس لیے جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور (اپنی حاجت پوری کر لے)، یہ چیز اس کے نفس کے برے خیال کو ختم کر دے گی۔

وضاحت:
فوائد: … انسان پاکباز اور پاکدامن رہنے کی فکر رکھتا ہو، تو اس حدیث میں بیان کیا ہوا اصول اس کا سب سے بڑا معاون ہو گا، کیونکہ پاکدامنی اسی وقت متاثر ہوتی، جب آدمی غیر محرم خواتین کے پیچھے پڑتا ہے اور پھر دن بدن شیطان اس کے دل میں گھر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر کوئی اس قانون پر عمل کرے گا تو اس کو دو برکتوں کا حصول ہو گا، ایک غیر محرم عورت سے بے رخی اختیار کرنا اور دوسرا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا، مؤخر الذکر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باعث ِ اجر قرار دیا ہے، شیطان ایسے آدمی سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے شروع والے حصے میں میں ایک بات قابل توجہ ہے کہ وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی لگی، اس کے بارے میں ابن عربی لکھتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دل میں جو خیال آیا،یہ ایسا معاملہ ہے، جس پر نہ شرعاً مؤاخذہ ہو گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت و منزلت میں کوئی کمی آئے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز محسوس کی ہے، یہ آدمی کی جبلّت ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم اور حکیم تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجیت ادا کر کے پاکدامنی کے ساتھ اس جبلی اور فطرتی خیال کو ختم کر دیا۔
قارئین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و عظمت کا اعتراف کرنے کے بعد ان امور میں فرق کرنا چاہیے: محض کسی چیز کا خیال آ جانا، برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا اور پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنے کا ارادہ کرنا، برائی کا عزم کرنا اور
اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں رہنا، عملی طور پر برائی کرنا۔ مؤخر الذکر تین امور عصمت کے منافی ہیں، پہلی چیز قابل مؤاخذہ نہیں ہے، بالخصوص جب اس کے اثر کو نیکی کے ذریعے زائل کر دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6665
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1403، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14591»