الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
) باب: اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
حدیث نمبر: 6664
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی پہلی مرتبہ کسی عورت کے محاسن پر نظر پڑتی ہے، لیکن پھر وہ اپنی نظر کو پست کر لیتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال اس قسم کے حرام کردہ امور سے بچتے وقت مؤمن کو اپنے مزاج میں لذت اور حلاوت محسوس ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حرام سے اجتناب کرنا عبادت گزاری کی بڑی اقسام میں سے ہے، اس لیے ایسا کرتے وقت اللہ تعالی کے قرب کا احساس ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بڑھ جاتی ہے، جس کا لازمی نتیجہیہ ہے کہ مزاج فرحت و مسرت محسوس کریں۔