حدیث نمبر: 6659
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ لَا مَحَالَةَ فَالْعَيْنُ زِنْيَتُهَا النَّظَرُ وَيُصَدِّقُهَا الْأَعْرَاضُ وَاللِّسَانُ زِنْيَتُهُ النُّطْقُ وَالْقَلْبُ الْمُتَمَنِّي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا ثَمَّ وَيُكَذِّبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم کے بیٹے پر اللہ تعالیٰ نے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لا محالہ طور پر پائے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، پھر مختلف (روحانی) بیماریاں اس کی تصدیق کرتی ہیں، زبان کا زنا بولنا ہے، دل تمنا کرنے والا ہوتا ہے اور شرمگاہ ان سب امور کی تصدیق کرتی ہے یا پھر تکذیب۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی نے لوح محفوظ میں وہ نیکیاں اور برائیاں بھی لکھ دی ہیں، جو ہر انسان نے کرنی ہیں، اسی چیز کو اللہ تعالی کا علم یا تقدیر کہتے ہیں، لیکن اس ریکارڈ کا یہ معنی نہیں کہ انسان برے اعمال کر کے گنہگار نہیں ہو گا، اگر اللہ تعالی کو علم ہے کہ فلاں بندے نے بدکاری کرنی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس معاملے میں بندے کو معذور سمجھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6659
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 4421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8199»